بھٹکل:6/مئی (ایس اؤنیوز)نکاح اگر دین کی بنیاد پر ہو تو زندگی میں پیش آنے والے تمام مسائل حل ہوتےہیں ،دین کو چھوڑ کر دیگر چیزوں کی بنیاد پر نکاح ہوتاہے تو جینا دوبھر ہوجاتاہے ، مسائل پیدا ہوتے ہیں اور جب آپس میں جوڑ نہیں ہورہاہے تو اسلام نے بھلے طریقے سے میاں بیوی کو الگ ہونے کا جو راستہ بتایا ہے اسی کو طلاق کہتے ہیں، طلاق مرد کا حق ہے تو خلع عورت کا حق ہے ، ہرحال میں اسلام انسان کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے کہ کہیں اس کو کوئی دشواری پیش نہ آئے ۔ ان خیالات کااظہار انجمن پی یو کالج کے عربی لکچرر اور مسجد احمد سعید ہرلی سال کے خطیب مولانا محمد جعفر فقی بھاؤ ندوی نے کیا۔
وہ یہاں جماعت اسلامی ہند کی "مومن فقط احکام ِ الہٰی کا ہے پابند"کے عنوان پر منائی جارہی مسلم پرسنل لاء بیداری ملک گیر مہم کے تحت بدریہ کالونی کے علامہ اقبال میمورئیل اسکول کے صحن میں منعقدہ اجلاس عام میں ’’اسلامی عائلی قوانین ‘‘ پر خطاب کررہے تھے۔ مولانا نے آگے فرمایا کہ طلاق اور خلع پر بھی مسئلہ حل نہیں ہوتاہے تو اسلام نے قاضی کو حق دیا ہے کہ انصاف کی بنیاد پر نکاح کو فسخ قرار دے۔ اسی طرح پہلی مرتبہ اسلام نے عورت کو وراثت میں حق عطا کیا ہے۔ اسلام کا بنیاد ی مقصد یہ ہے کہ وہ ایک بہترین معاشرے کی اور بہترین سوسائٹی کی تشکیل چاہتاہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مسائل کا محکمہ شرعیہ اور علماء کے توسط سے حل ڈھونڈیں۔
مسلم پرسنل لاء اور یکساں سول کود کے عنوان پر انجمن پی یو کالج کے لکچرر عبدالرؤوف سونور نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دستور ِ ہند میں ملک کے شہریوں کو بنیادی حقوق عطاکئے گئے ہیں جس میں شہر ی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے، اس کی تبلیغ و اشاعت کرے،دوسرا مذہب قبول کرے۔ اسی کے تحت مسلمان اپنے عائلی مسائل جیسے نکاح، طلاق، خلع، فسخ، وراثت وغیرہ کو اسلامی قوانین کے مطابق حل کرتے ہیں اسی کو مسلم پرسنل لاء کہا جاتاہے ۔ مسلم پرسنل لاء ،دستورِ ہند کے متوازی نہیں بلکہ دستور کی دی گئی آزادی کے مطابق اپنے مذہب پر عمل پیرا ہیں، جس پر کچھ مفاد پرست ، سیاست دان واویلا مچارہے ہیں۔ بنیاد ی حقوق کو ترجیح دینے کے بجائے رہنما اصول کے تحت جو دفعہ درج کی ہے اس کو اہمیت دینا اور اس کے نفاذ کی باتیں کرنا لاشعوری اور بے وقوفی کی باتیں ہیں، جو کسی حال میں ممکن نہیں ہے۔ فی الوقت ملک کے مسلمانوں کے سامنے جو مسائل پیدا کئے گئے ہیں اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ ہم شریعت پر مکمل عمل کریں اورملک کے دیگر شہریوں کے سامنے شریعت اسلامی کا بہترین نمونہ پیش کریں تو مسائل پیدا کرنے کے بجائے وہ خود شریعت کے آغوش میں پناہ لیں گے۔
مولانا محمد ارشاد نائطے ندوی نے ’’ازدواجی زندگی میں زوجین کے حقوق اور عدل ‘‘پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میاں بیوی اگر نکاح کے دوران پڑھی جانے والی آیا ت کا مفہوم سمجھتے ہیں یا انہیں سمجھایاجائے تو کبھی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا نکاح کے دوران جو آیات پڑھی جاتی ہیں ان میں ’’اللہ سے ڈرنے ‘‘ کی بات کہی گئی ہے۔ چونکہ ہمارا خاندانی نظام بہت مضبوط ہے ہماری غفلت سے کہیں یہ کمزور نہ ہوجائے اسی لئے ہمیں اپنے خاندانی نظام کی اصل بنیاد روجین کو خوشگوار رکھیں۔ اخلاق درست نہ ہوں تو بگاڑ شروع ہوجاتاہے، اخلاق اچھے ہوں تو میاں بیوی کے تعلقات کبھی منقطع نہیں ہونگے، ناچاقی اور نوک جھونک ہوتی رہتی ہے صبر سےکام لیں، صبر زندگی کو کامیاب کرتاہے ، زبان کی حفاظت کریں زبان کے استعمال میں انتہائی درجہ کا احتیاط ضروری ہے، میاں بیوی ایک دوسرے کاحوصلہ بڑھائیں ، تعریف کریں احترام کا معاملہ برتیں تو کچھ نہ ہوگا۔ کسی معاملے میں بھی جلد بازی نہ کریں ، میاں بیوی ایک دوسرے کی خامیوں کو نہیں بھلائیوں پر نظر رکھیں۔ ستائش کریں تو ازدواجی زندگی بہترین گزرے گی۔
امیرمقامی مجاہد مصطفیٰ نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے عوام سے خاص کر مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اسلامی شریعت کو اپنائیں، نمونہ بن کر دنیا کو دکھائیں، اپنے مسائل کو محکمہ شرعیہ کے ذریعے حل کرائیں، قاضی صاحبان اور علماء سے ربط کریں، اگر میاں بیوی میں کچھ ان بن ہوگئی ہے تو دعوت سنٹر کے کونسلنگ سنٹر سے ان کو دوبارہ ملانے اور ایک کرنےکی حتی الامکان کوشش کی جائے گی ، کچھ بھی عدالتوں کا چکر کاٹ کر پیسہ برباد کرکے اپنے آپ پر ظلم نہ کریں ، اسلامی قوانین پر عمل پیر ا ہوکر راحت کی زندگی گذاریں۔
اجلاس عام کا آغاز محمد مفیض کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ مولوی محمد راسخ نے ہدیہ نعت پیش کی۔ مہم کے کنونیر مولانا سید یاسر ندوی نے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔ ناظم ضلع محمد طلحہ سدی باپا نے استقبال کرتے ہوئے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔مولانا ابو صالح ندوی کی دعاپر جلسہ کا اختتام ہوا۔ ڈائس پر علاقہ کے ذمہ داران عبدالحمید، ماسٹر عثمان ، محمد نور، محمد سلیمان، تاج الدین، اسپورٹس سنٹر کے صدر محمد عرفان موجود تھے۔ جلسہ میں مرد وخواتین شریک تھے۔ تواضع کا اہتمام کیا گیا تھا۔